لائیو, اگر امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے تو ایران بھی کرے گا: پزشکیان
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر کے دستخط موجود تھے، تاہم اس دستاویز سے امریکہ کی وابستگی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے تک برقرار رہی۔
خلاصہ
امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے تو ایران بھی کرے گا: پزشکیان
روس کے لیے لڑنے والے 51 انڈین شہری ہلاک ہو چکے: انڈین سیکریٹری خارجہ
راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارش، نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند
وزیر دفاع سے اختلافات، امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول مستعفی
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن
لائیو کوریج
نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی، ہزاروں افراد تاحال لاپتہ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ملک کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق 3,900 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ ایسے کارکن بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ دریائے ترشولی کے کنارے پن بجلی کے منصوبوں میں موجود مٹی سے بھرے سرنگوں کے وسیع نیٹ ورک میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ان سرنگوں میں ہوا پہنچانے کے لیے انجینیئرز پمپس استعمال کر رہے ہیں۔ ایک امدادی ٹیم ایک سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئی، تاہم وہاں کسی شخص کو نہ پانے کے بعد ٹیم واپس آ گئی۔
بی بی سی نیپالی سے گفتگو کرتے ہوئے 33 سالہ انجینیئر اوروس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ ہم انھیں تلاش کر سکیں۔ میری خواہش ہے کہ وہ گھر واپس آ جائیں۔‘ اوروس ایک پن بجلی منصوبے کی سائٹ سے لاپتہ ہیں۔
نیپال کے وزیرِاعظم بالیندر شاہ نے پیر کو بتایا کہ ان منصوبوں کی سائٹس سے 279 افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔
امدادی کارروائی کی قیادت چین اور نیپال کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے ماہرین بھی امدادی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔
،تصویر کا ذریعہNepal Army/Reuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے تو ایران بھی کرے گا: پزشکیان
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے
کہ اگر امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کی
طرف واپس آتا ہے تو ایران بھی معاہدے پر عمل درآمد فوری طور پر دوبارہ شروع کر دے
گا۔
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے
سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے
درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر کے دستخط موجود
تھے، تاہم اس دستاویز سے امریکہ کی وابستگی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے تک برقرار
رہی۔
انھوں
نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے جواب میں
ایران نے بھی متناسب ردعمل دیا تھا۔
روس کے لیے لڑنے والے 51 انڈین شہری ہلاک ہو چکے: انڈین سیکریٹری خارجہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
انڈین سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے
کہا ہے کہ روس کے لیے لڑنے والے 51 انڈین شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل
کے مطابق کرغزستان کے
دار الحکومت بشکیک میں وکرم مصری سے اُن انڈین شہریوں کے بارے میں سوال پوچھا گیا جو
روسی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وکرم مصری نے جواب دیا کہ روسی مسلح
افواج میں انڈین شہریوں کی بھرتی کا معاملہ انڈیا اور روس کے درمیان مختلف سطح پر
متعدد بار زیرِ بحث آ چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ماسکو میں انڈیا کا
سفارتخانہ روسی فوج میں شامل انڈین شہریوں کی وطن واپسی کے عمل کی مسلسل نگرانی کر
رہا ہے۔
سیکریٹری خارجہ نے کہا: ’ہمارے پاس دستیاب
معلومات کے مطابق 227 انڈین شہریوں کے روسی فوج میں بھرتی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان
میں سے 139 شہریوں کو فوجی خدمات سے فارغ کیا جا چکا ہے۔‘
انھوں
نے مزید کہا کہ ’افسوسناک طور پر اب تک 51 انڈین شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی
موصول ہوئی ہیں۔‘
اسمبلی اجلاس کے دوران سابق افغان فوجیوں کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ، حکومت نے شواہد طلب کر لیے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت
علمائے اسلام (ف) کے رکن صوبائی اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے دعویٰ کیا ہے کہ
افغانستان سے متصل پاکستانی علاقوں میں ہزاروں سابق افغان فوجی لائے گئے ہیں، تاہم
صوبائی حکومت نے اس دعوے کے ثبوت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی مصدقہ
معلومات یا شواہد موجود نہیں۔
ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والے رکن
اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے امن و امان سے متعلق ایک قرار داد پر بحث کے دوران یہ
دعویٰ کیا۔ مذکورہ قرار داد عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی انجینیئر زمراک خان
اچکزئی نے پیش کی تھی، جس میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا
اظہار کیا گیا تھا۔
بح�� میں حصہ لیتے ہوئے فضل قادر
مندوخیل نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور دعویٰ کیا
کہ سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور کے ہزاروں افغان فوجی ان کے علاقے میں لائے گئے
ہیں۔ انھوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ان افراد کو وہاں کیوں منتقل کیا گیا ہے۔
قرارداد پر حکومت اور اپوزیشن کے
اراکین نے اظہار خیال کیا، تاہم اجلاس کے دوران صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے
اس دعوے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
بعد ازاں اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا
سے گفتگو کرتے ہوئے بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس سابق افغان فوجیوں کی
موجودگی سے متعلق معلومات ہیں تو انھیں اس کے شواہد بھی پیش کرنے چاہییں۔
انھوں نے کہا کہ اسمبلی ایک ذمہ دار
فورم ہے اور وہاں حقائق اور شواہد کی بنیاد پر گفتگو ہونی چاہیے۔
بخت محمد کاکڑ کے مطابق، بغیر ثبوت
کے اس نوعیت کے دعوے ’عوام میں بے چینی اور کنفیوژن‘ پیدا کر سکتے ہیں۔
فضل قادر مندوخیل کی جانب سے سابق افغان فوجیوں کی موجودگی سے متعلق دعوے کے حوالے سے اجلاس یا بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے، جبکہ صوبائی حکومت نے بھی کہا ہے کہ اس دعوے کی تائید میں اس کے پاس کوئی معلومات موجود نہیں۔
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر ایرانی اور چینی وزرائے خارجہ کی ملاقات
،تصویر کا ذریعہTelegram/s_a_araghchi
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے
سربراہی اجلاس کے دوسرے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین کے وزیر خارجہ
وانگ یی سے ملاقات کی، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات
جاری نہیں کی گئی ہیں۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی الگ ملاقات کی۔
شنگھائی
تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس بشکیک میں جاری ہے، جس میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز
شریف، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، انڈین
وزیراعظم نریندر مودی سمیت رکن ممالک کے دیگر رہنما شرکت کر رہے ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارش، نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ضلعی انتظامیہ کے مطابق راولپنڈی اور
اسلام آباد میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح
انتہائی خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے، جس کے بعد متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر
دیا گیا ہے، جبکہ نالہ لئی کے اطراف آبادیوں کے ممکنہ انخلا کے لیے انتظامیہ متحرک
ہو چکی ہے۔
حکام کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر
نالہ لئی میں پانی کی سطح 28 فٹ تک پہنچ گئی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا
جا رہا ہے، جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر پانی کی سطح 23 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کٹاریاں میں
پانی کی سطح انخلا کے مقررہ 20 فٹ کے معیار سے آٹھ فٹ بلند ہو چکی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے بیسن میں
مجموعی طور پر 126.35 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ شمس آباد میں 197 ملی میٹر
اور نیو کٹاریاں میں 184 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ اس کے علاوہ گولڑہ میں 157
ملی میٹر، پی ایم ڈی ایچ ایٹ میں 151 ملی میٹر، سیدپور میں 98 ملی میٹر، پیرودھائی
میں 86 ملی میٹر جبکہ بوکڑا اور کچہری میں 72، 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
انتظامیہ نے شہریوں کو نالہ لئی اور نشیبی علاقوں سے
دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر دفاع سے اختلافات، امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول مستعفی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول
نے عہدہ سنبھالنے کے تقریباً 18 ماہ بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ امریکہ میں بی بی سی
کے شراکت دار ادارے سی بی ایس کے مطابق ان کی رخصتی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ
کئی ماہ سے جاری اختلافات کے پس منظر میں ہوئی ہے۔
41 سالہ
ڈرسکول امریکی تاریخ کے کم عمر ترین آرمی سیکریٹری تھے۔
حالیہ چند ماہ کے دوران امریکہ کے کئی
اعلیٰ فوجی حکام نے اپنے عہدے چھوڑے ہیں۔ اس سے قبل نیوی کے سیکریٹری جان فیلن،
آرمی چیف آف سٹاف رینڈی جارج، جنرل ڈیوڈ ہوڈنے اور میجر جنرل ولیم گرین بھی اپنے
عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ایک درجن سے
زائد سینیئر فوجی افسران کو برطرف کر چکے ہیں، جن میں چیف آف نیول آپریشنز اور
امریکی فضائیہ کے نائب سربراہ بھی شامل ہیں۔ تاہم ڈرسکول اور ہیگسیتھ کے درمیان
اختلافات کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی آرمی سیکریٹری کا عہدہ فوج کا
اعلیٰ ترین سویلین منصب سمجھا جاتا ہے جو فعال فوج، نیشنل گارڈ اور ریزرو فورسز کی
نگرانی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
ڈین ڈرسکول نے 2007 میں امریکی فوج
میں بطور افسر خدمات کا آغاز کیا، بعد ازاں ایک کیولری پلاٹون کی قیادت کی اور
2009 میں عراق میں بھی تعینات رہے۔ آرمی سیکریٹری کی حیثیت سے وہ جنگی میدان میں
جدید ڈرون اور نئی عسکری ٹیکنالوجیز کے فروغ کے حوالے سے خاص طور پر نمایاں رہے۔
انہوں نے روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے
لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں بھی کردار ادا کیا اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی
سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے قریبی
ساتھی اور ذاتی دوست بھی سمجھے جاتے ہیں۔
اپنی
مدت کے دوران ڈرسکول نے امریکی شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے معاملات میں
بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ وہ بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو، فائر آرمز اینڈ
ایکسپلوسوز (اے ٹی ایف) کے قائم مقام سربراہ کی ذمہ داریاں بھی سنبھالتے رہے۔
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز
آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار بحری
جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش
آیا جب ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر کر باہر نکل رہا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ
عمان کے علاقے خصب سے تقریباً 31 کلومیٹر مشرق میں جہاز پر تین نا معلوم میزائل
نما اشیا آ کر لگیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے
میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ برطانوی ادارے نے واقعے کی مزید تفصیلات
جاری نہیں کیں۔
دوسری
جانب اس رپورٹ کے سامنے آنے سے چند گھنٹے قبل ایران کے بعض غیر سرکاری ذرائع ابلاغ
نے جنوبی ایرانی ساحل سے تین میزائل داغے جانے کی خبریں نشر کی تھیں، تاہم ان
اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارش، نالہ لئی میں پانی کی سطح میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے
والی موسلا دھار بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے، جس پر ضلعی
انتظامیہ نے نشیبی علاقوں اور نالہ لئی کے اطراف رہنے والے مکینوں کو محفوظ مقامات
پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔
واٹر اینڈ
سینیٹیشن ایجنسی (واسا) مطابق
نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 27 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر 21
فٹ تک پہنچ گیا، جس کے بعد خطرے کے پیش نظر سائرن بجا دیے گئے اور قریبی آبادیوں
کو الرٹ کر دیا گیا۔
ایم ڈی واسا کے مطابق راولپنڈی کے
علاقوں لیاقت باغ، کمیٹی چوک انڈر پاس، مری روڈ، ڈھوک کھبہ، سرکلر روڈ اور صادق
آباد کے نشیبی علاقوں میں واسا کا عملہ اور ہیوی مشینری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ
نالہ لئی اور شہر بھر کے نالوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات اور واسا کے اعداد و
شمار کے مطابق سب سے زیادہ بارش شمس آباد میں 195 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ اس کے
علاوہ نیو کٹاریاں میں 180 ملی میٹر، گولڑہ میں 157 ملی میٹر، پی ایم ڈی میں 146
ملی میٹر، سیدپور میں 97 ملی میٹر، پیرودھائی میں 86 ملی میٹر، کچہری میں 70 ملی
میٹر اور بوکرہ میں 66 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق راولپنڈی اور
اسلام آباد میں مجموعی طور پر تقریباً 200 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔
راولپنڈی کے علاقے گوالمنڈی میں نالہ
لئی کے پل پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر نے اعلان کیا کہ شدید
بارش اور سیلابی صورتحال کے باعث راولپنڈی کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں
چھٹی کر دی گئی ہے۔ انھوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو گھروں تک محدود
رکھیں اور ان کی حفاظت کا خصوصی خیال رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو بچے تعلیمی
اداروں میں موجود ہیں، ان کی حفاظت کے لیے سکول انتظامیہ ضروری احتیاطی اقدامات کرے۔
دوسری
جانب واسا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان میں بحری حادثات سے متعلق متضاد اطلاعات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی جنوبی گزرگاہ میں سعودی عرب کے ایک آئل ٹینکر کو روک لیا گیا ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے پیر 31 اگست کو بتایا کہ اسے بحرِ ہند میں ایک آئل ٹینکر اور فوجی دستوں کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے، تاہم اس نے واقعے کی تاریخ اتوار 30 اگست بتائی ہے۔
میری ٹائم ٹریڈ واچ ڈاگ کی وارننگ نمبر 123-26 کے مطابق یہ واقعہ 30 اگست 2026 کو پیش آیا۔
برطانوی میری ٹائم اتھارٹی نے ٹینکر یا اس میں ملوث فوجی دستوں کی شناخت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم کہا کہ متعلقہ حکام واقعے سے آگاہ ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گزشتہ چند روز کے دوران آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں سے متعلق کئی دیگر واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں اور خطے میں تجارتی بحری جہازوں کے لیے الرٹ کی سطح بدستور بلند ہے۔
حملوں کے ذرائع کو نشانہ بنائیں گے: ایران کی مسلح افواج کا انتباہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے خطے کے ممالک کی سرزمین استعمال کی گئی تو تہران ایسے حملوں کے ’ذرائع‘ کو بھی نشانہ بنائے گا۔
جنرل سٹاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقائی ممالک اپنے سابقہ مؤقف کے باوجود امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، تاہم وہ ’کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا‘ اور ایسے اقدامات کا ’مزید سخت جواب‘ دے گا۔
ایرانی فوج کے مطابق گذشتہ رات کی جوابی کارروائیاں بھی اسی پالیسی کے تحت کی گئیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اتوار کی شب خلیج فارس میں واقع ایرانی جزیرے لارک پر حملے کیے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اس کے جواب میں اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ان حملوں کو ’بغیر جواب‘ نہیں چھوڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس کارروائی کا ’سخت جواب‘ دیا جائے گا۔
اسرائیل اور یونان کے درمیان تین ارب یورو کے دفاعی معاہدے پر دستخط
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ریٹائرڈ) امیر بارام اور ان کے یونانی ہم منصب یوانیس بوراس 31 اگست 2026 کو تل ابیب میں وزارتِ دفاع کے ہیڈکوارٹرز میں تقریباً 3 ارب یورو مالیت کے دفاعی برآمدی معاہدے پر دستخط کے بعد مصافحہ کر رہے ہیں
اسرائیل اور یونان نے تقریباً 3.5 ارب ڈالر مالیت کے ایک بڑے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان اب تک کا سب سے بڑا اسلحہ معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق ’اخیلس شیلڈ‘ نامی اس معاہدے کے تحت یونان کو اسرائیلی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام فراہم کیا جائے گا، جو بیلسٹک میزائلوں سے لے کر ڈرونز تک مختلف خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل اور یونان کے مشترکہ تزویراتی مفادات ہیں اور دونوں ممالک کو خطے میں یکساں چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی دفاعی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال اسرائیل نے 19 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا دفاعی سازوسامان برآمد کیا، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق کئی ممالک اسرائیلی اسلحے میں دلچسپی اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ اسے عملی جنگی حالات میں آزمایا جا چکا ہے اور اس کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
یونان اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات
اسرائیل اور یونان کے درمیان گذشتہ ایک دہائی کے دوران دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم پیر کو طے پانے والا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اب تک کا سب سے اہم دفاعی سمجھوتہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یونان اپنی مسلح افواج کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں سمندری حدود سے متعلق تنازعات کے باعث اس کا اپنے ہمسایہ اور نیٹو اتحادی ترکی کے ساتھ طویل عرصے سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔
اس سے قبل یونان نے اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ 1.65 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت فضائی تربیتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ راکٹ لانچرز، اینٹی ٹینک میزائلوں اور ڈرونز کے حصول کے معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔
یونانی وزیرِ دفاع نیکوس ڈینڈیاس نے معاہدے پر دستخط کے بعد کہا کہ جدید تنازعات نے دفاع اور عسکری مزاحمت کے روایتی تصورات کو تبدیل کر دیا ہے۔
ان کے مطابق ٹیکنالوجی، بیلسٹک میزائل، سیٹلائٹ مواصلات، بغیر پائلٹ کے نظام، سائبر خطرات اور ہائبرڈ جنگ جیسے عوامل نے پرانے دفاعی نظریات کو ’مکمل طور پر غیرحقیقی‘ بنا دیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق معاہدے میں ڈیوڈز سلنگ اور سپائیڈر سمیت متعدد فضائی دفاعی نظام اور ایک نیا قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم شامل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 30 ملین ڈالر مالیت کے ایک الگ معاہدے کے تحت رافیل کے ڈرون ڈوم سسٹمز بھی یونان کو فراہم کیے جائیں گے۔
اسرائیل دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ برآمد کنندہ
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی رواں سال جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل عالمی اسلحہ برآمدات میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
اسرائیلی دفاعی صنعت کی مجموعی برآمدات میں نصف سے زیادہ حصہ میزائلوں، راکٹوں اور فضائی دفاعی نظاموں کا ہے۔
پنجاب اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا، اپوزیشن کی ترامیم مسترد, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
،تصویر کا ذریعہProvincial Assembly of Punjab
پنجاب اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا ہے جس کے تحت دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیش کاروں اور گواہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
بل پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور خالد محمود رانجھا نے ایوان میں پیش کیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔
اسمبلی کارروائی کے دوران اپوزیشن کی دو ترامیم بھی منظور نہ ہو سکیں۔ اپوزیشن ارکان کے واک آؤٹ کے باعث ان ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔
بل کے متن کے مطابق مجوزہ قانون کا مقصد دہشت گردی کے مقدمات میں عدالتی کارروائی کو محفوظ بنانا اور ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا ہے۔
قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کو محفوظ ٹیکنالوجی کے ذریعے مقدمات کی سماعت اور دیگر عدالتی کارروائیاں انجام دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ خصوصی سکیورٹی مقدمات میں ویڈیو کانفرنسنگ، الیکٹرانک لنکس اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال کیے جا سکیں گے جبکہ عدالتی کارروائی آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ بھی کی جائے گی۔
بل میں ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے وائس موڈیفکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق بعض مقدمات کی سماعت محفوظ مقامات پر کی جا سکے گی اور وہاں رسائی صرف متعلقہ ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، گواہوں اور دیگر مجاز افراد تک محدود ہوگی۔ سکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کی صورت میں مقدمات جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے بھی چلائے جا سکیں گے۔
بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قانونی فریم ورک ہائی سکیورٹی مقدمات کی محفوظ سماعت کے لیے ناکافی ہے، اس لیے جدید تقاضوں کے مطابق نئی شقیں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کے باوجود منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار اور شہری آزادیوں سے متعلق آئینی ضمانتیں برقرار رہیں گی۔
قانون کے تحت حکومت گریڈ 20 یا اس کے مساوی عہدے کے ایک افسر کو خصوصی سکیورٹی مقدمات کے لیے نامزد کرے گی۔ یہ افسر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد اس بات کا تعین کرے گا کہ کون سے مقدمات غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے متقاضی ہیں۔
نامزد اتھارٹی کو متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری، قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے اور ضروری ہدایات جاری کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے جبکہ اس افسر کی شناخت اور تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی۔
بلوچستان اسمبلی کا تیزاب حملوں کے خلاف سخت قانون سازی کا مطالبہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہPROVINCIAL ASSEMBLY OF BALOCHISTAN
،تصویر کا کیپشنبلوچستان صوبائی اسمبلی
بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں تیزاب پھینکنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔
یہ قرارداد خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے پیش کی گئی، جسے ایوان نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔
قرارداد پیش کرتے ہوئے رکن اسمبلی شاہدہ رؤف نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب حملے کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ صرف ایک فرد پر بہیمانہ حملہ نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس اور باوقار زندگی کے حق پر بھی سنگین حملہ ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تیزاب حملوں جیسے سنگین جرائم وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں، تاہم ان کی روک تھام اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے صوبائی سطح پر کوئی جامع اور مخصوص قانون موجود نہیں۔
شاہدہ رؤف کا کہنا تھا کہ یہی قانونی خلا ایسے گھناؤنے جرائم کے سدباب میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزاب حملے متاثرہ افراد کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی نجی زندگی پر بھی ناقابلِ تلافی اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لیے مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔
قرارداد میں بلوچستان حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر ضروری ترامیم تجویز کرے یا تیزاب حملوں کی روک تھام کے لیے ایک جامع اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نیا قانون متعارف کرائے۔
قرارداد کے مطابق مجوزہ قانون میں تیزاب حملوں میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں، متاثرین کے لیے معیاری طبی علاج، پلاسٹک سرجری، نفسیاتی معاونت، قانونی اور مالی امداد کی فراہمی سمیت تیزاب کی خرید و فروخت اور نقل و حمل کے لیے سخت ضابطہ کار شامل کیا جانا چاہیے۔
بحث کے بعد اسمبلی نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب حملے کا واقعہ رواں سال جون کے اوائل میں پیش آیا تھا۔ انہیں ابتدائی علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں مزید علاج کے لیے بیرونِ ملک بھیجا گیا۔
مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا تعاون مزید مؤثر بنانے پر اتفاق، مستقل سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا
،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی کے شہر استنبول میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں شرکت کی ہے۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں تینوں ممالک نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے بحرانوں کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کے لیے کشیدگی میں کمی اور تحمل کے فروغ کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
تینوں ممالک نے مکہ معاہدے کے تحت اپنے تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اقدامات پر بھی اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد باہمی یکجہتی کو مضبوط بنانا، مشترکہ دفاعی صلاحیت کو زیادہ مؤثر بنانا اور علاقائی امن کی کوششوں میں کردار ادا کرنا ہے۔
اس مقصد کے لیے سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی سیکریٹری جنرل کریں گے۔ اعلامیے کے مطابق ابتدائی تین برس کے لیے سیکریٹری جنرل کا عہدہ پاکستان کے پاس ہوگا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک دفاعی صنعت میں تعاون، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار، اور مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کے باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے پر مؤثر اور منظم عملدرآمد کے ذریعے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں کردار ادا کریں گے۔
لارک جزیرے پر امریکی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی، ایران کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خلیج فارس میں واقع جزیرۂ لارک پر گذشتہ رات ہونے والے امریکی حملے میں زخمی ہونے والا ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا ہے، جس کے بعد سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
اس سے قبل قشم کاؤنٹی کے گورنر، جس کے انتظامی دائرے میں لارک جزیرہ بھی شامل ہے، نے دو افراد کے ہلاک اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ لارک جزیرے پر امریکی حملے کے نتیجے میں ’متعدد جنگجو اور شہری شہید یا زخمی ہوئے ہیں‘۔
امریکہ نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ اس نے لارک جزیرے پر ایرانی بارودی سرنگیں بچھانے والے دو نظاموں کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ لارک جزیرے پر ہونے والی یہ امریکی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج فارس میں تقریباً ایک ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست حملوں میں نسبتاً وقفہ دیکھا جا رہا تھا۔
آبنائے ہرمز میں ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ غلط ہے: امریکی فوج
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کو غلط قرار دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے والا ایک سپر ٹینکر دو بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد مکمل طور پر رک گیا ہے۔
حقائق کی جانچ کرنے والوں کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دعویٰ علاقائی تجارتی بحری جہاز رانی کو خوفزدہ کرنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی ایک اور غلط معلوماتی مہم (ڈس انفارمیشن) کا حصہ ہے۔
حکام کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی جہاز کے بارودی سرنگ سے متاثر ہونے کی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں۔
ایران کے حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اردن میں موجود اپنے فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کا ’سخت جواب‘ دے گا۔
فاکس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایرانی کارروائی کے جواب میں سخت کارروائی کرے گا۔ یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے اردن میں واقع دو امریکی فضائی اڈوں، شاہ حسین اور الازرق، کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود ’تکنیکی و دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور دشمن کے لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان‘ پہنچایا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز نے گذشتہ رات ایک میزائل کو فضائی دفاعی نظام سے گزرنے دیا کیونکہ وہ کسی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھا، جبکہ دیگر ایرانی میزائلوں کو مار گرایا گیا۔
ادھر اردن نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے آٹھ ایرانی میزائل ناکارہ بنا دیے۔
تاہم امریکی صدر نے کشیدگی کے باوجود سفارتی حل کی امید بھی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ واقعی ہم سے ملنا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سوشل ٹروتھ پر امریکی صدر نے لکھا کہ ’ایران باضابطہ طور پر ایک ناکام ریاست بن چکا ہے۔ وہ ختم ہو چکا ہے! اس کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ، نہ کوئی مؤثر کرنسی۔ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں دے رہا۔ مہنگائی 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اور اس کی قیادت مکمل انتشار کا شکار ہے اور ملک کی مناسب نمائندگی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔‘
ٹرمپ کے مطابق ’ان کے پاس صرف امریکہ سے آنے والی فیک نیوز، اپنے ہی مظاہرین کو قتل کرنے کی آمادگی (اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھیں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم پر مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے!)، اور بے بنیاد دعووں کی ایک لمبی فہرست ہے۔‘
شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر زور
،تصویر کا ذریعہPakistan govt
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے۔
پاکستانی وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران رواں سال جون میں صدر پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ بھی لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران اور وہاں ہونے والے رابطوں سے مثبت نتائج کی توقع ہے۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تحمل، بردباری اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی رشتوں پر قائم ہیں۔ انھوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
صدر پزشکیان نے مسلم دنیا میں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے انھیں پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔
بیان کے مطابق ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو دسمبر 2026 میں تہران میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں مزید صوبے کے قیام کی تجویز کو مسترد کر دیا, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی
،تصویر کا ذریعہSindh CM House
وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں مزید صوبے بنانے
کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔‘
پیر کو صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ
کا کہنا تھا کہ ’لاہور کے تاجر بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ سندھ کو تقسیم
ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ سندھ اسمبلی کے ارکان متعدد بار کر چکے ہیں کہ سندھ کے حصے
نہیں ہوں گے، سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔‘
سندھ کے وزیر اعلیٰ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا
ہے جب پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث چل رہی ہے۔
مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانے یا نہ
بنانے کا ’ہم فیصلہ کریں گے، نہ کوئی عدالت فیصلہ کرے گی اور نہ ہی سڑکوں پر نکلا
ہوا کوئی شخص یہ فیصلہ کرے گا۔‘
’فیصلہ اس ایوان میں ہوگا، بحث اس ایوان میں ہوگی۔ فیصلہ
یہ ایوان کرے گا اور انشا اللہ ایسا فیصلہ کرے گا کہ جو باقی آوازیں چل رہی ہیں،
ان سب کے منھ ہم بند کریں گے۔‘
سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں پر بحث جاری ہے جو اگلے چند
روز تک جاری رہے گی ، جس کے بعد حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے قرار دادا پیش
کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف قیامِ
پاکستان کے بعد سے اب تک پانچ قرار دادیں منطور کرچکی ہے۔
پہلی قرارداد 10 فروری 1948 کو پیش کی گئی، جب کراچی کو
سندھ سے الگ کرکے وفاق کے حوالے کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ یہ قرارداد قاضی
اکبر کی جانب سے جمع کروائی گئی اور محمد اعظم نے اسے ایوان میں پیش کیا۔
یہ قرارداد اکثریتِ رائے سے منظور ہوئی، لیکن بعد میں
کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا۔
دوسری قرارداد چھ مارچ 1954 کو اپوزیشن لیڈر اور قوم
پرست رہنما جی ایم سید نے پیش کی۔ قرارداد میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا
کہ کراچی شہر اور اس سے منسلک وفاقی علاقہ دوبارہ سندھ میں شامل کیا جائے۔
قرارداد میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ کراچی کو
سندھ سے الگ کرنے کی وجوہات ناکافی تھیں اور اس فیصلے کے نتیجے میں سندھ حکومت کو
دارالحکومت اور آمدنی کے ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی نہیں کیا گیا۔
تیسری قرارداد 25 ستمبر 2014 کو کراچی کی ممکنہ علیحدگی
کے خلاف منظور کی گئی۔ یہ قرارداد اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر محمد شہریار خان مہر نے
پیش کی تھی اور ایوان نے اکثریتِ رائے سے اسے منظور کیا۔
چوتھی قرارداد 16 ستمبر 2019 کو منظور کی گئی، جس پر
مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اسمبلی ارکان نے دستخط کیے تھے، اس قرارداد کے ذریعے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی
کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا گیا تھا۔
پانچویں قرارداد 21 فروری 2026 کو سندھ اسمبلی نے منظور
کی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر
منظور ہوئی۔ اس قرارداد میں کراچی کو سندھ
کا تاریخی، آئینی اور انتظامی حصہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کی حیثیت میں کسی
بھی یکطرفہ تبدیلی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔