’جو ہندو سمجھتا ہے کہ انڈیا مسلمانوں کے لیے نہیں، وہ ہندو نہیں‘: آر ایس ایس رہنما موہن بھاگوت کے بیان پر تنقید کیوں؟

،تصویر کا ذریعہANI
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
انڈیا کی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت ان دنوں امریکہ سمیت تین ممالک کے دورے پر ہیں جہاں مختلف تنظیموں کی جانب سے سخت مخالفت کے درمیان ان کے پروگرامز جاری ہیں۔
لیکن ان کے ’ہندو-مسلم اتحاد‘ والے بیان پر انڈیا کے مسلم رہنماؤں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے جسے انھوں نے آر ایس ایس کا ’دوہرا معیار‘ قرار دیا ہے۔
موہن بھاگوت نے سنیچر کے روز امریکہ کے شہر نیویارک میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو ہندو یہ سمجھتا ہے کہ انڈیا مسلمانوں کے لیے نہیں ہے، وہ ہندو نہیں۔‘
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رہنما اور رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ آر ایس ایس کی پلے بُک کا سب سے پرانا حربہ، دنیا کے لیے ان کے الفاظ الگ ہیں جبکہ اپنے اراکین کے لیے مختلف۔‘
اویسی نے اتوار کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں آر ایس ایس کے بانیوں اور نظریہ سازوں کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم ہمیشہ سے ملک کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف رہی ہے۔
اویسی نے دعویٰ کیا: ’آر ایس ایس کے بانی انڈین نیشنل کانگریس میں شامل تھے، لیکن انھوں نے اسے اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ وہ گاندھی کی قیادت میں چلنے والی برطانوی استعمار مخالف تحریکِ آزادی میں تمام مذہبی برادریوں کی شمولیت کے خلاف تھے۔‘
اویسی سات نکات پر مبنی اپنی تنقید میں لکھا: ’آر ایس ایس نے کبھی بھی اپنے اہم نظریہ سازوں اور مصنفین کے خیالات سے لاتعلقی اختیار نہیں کی۔ ذرا دیکھیے کہ وہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔‘
انھوں نے اخیر میں لکھا: ’میری موہن بھاگوت سے درخواست ہے کہ وہ ساورکر، ہیڈگیوار، گولوالکر اور دیگر (آر ایس ایس) رہنماؤں کی تحریروں کے چند منتخب اقتباسات ہی عوام کے سامنے پڑھ کر سنا دیں۔ پھر لوگوں کو خود فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ آر ایس ایس کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اسد الدین اویسی نے حوالے کے ساتھ سنہ 2002 کے گجرات فسادات میں آر ایس ایس کے کردار اور مسلمان اور مسیحی برادریوں کو ’پہلا‘ اور ’دوسرا‘ اندرونی خطرہ قرارد دینے کے آر ایس ایس کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے ذریعے دوسرے مذاہب کے عائلی قوانین میں مداخلت کی بات بھی کہی ہے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’آر ایس ایس ہمیشہ جمہوریت کی مخالفت کرتی رہی ہے اور مسلسل آمریت کا مطالبہ کرتی آئی ہے۔‘
نہ صرف اسدالدین اویسی بلکہ انڈیا کی اہم ترین مسلم تنظیموں میں شامل جمیت علمائے ہند کے صدر، دارالعلوم دیوبند کے پرنسپل اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا ارشد مدنی نے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا: ’اگر مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کی وکالت کرنے والوں کو ہندو نہیں سمجھا جاتا ہے، تو موہن بھاگوت جی کو بتانا چاہیے کہ آر ایس ایس ایسے افراد کو اپنی تنظیم سے کیوں نہیں نکالتا ہے۔‘
انھوں نے مزید لکھا: ’مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے، ہجومی تشدد اور تشدد کی حمایت کرنے والے، معاشی اور سماجی بائیکاٹ کا مطالبہ کرنے والے، مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے والے، اور مسلمانوں کی شہریت اور آئینی حقوق پر شک کرنے والے لوگ دراصل کون ہیں؟ آر ایس ایس نے اب تک ان کے خلاف کیا کارروائی کی ہے؟‘

’یہ محض غیر ملکی سامعین کے لیے بیان بازی تو نہیں‘
مولانا ارشد مدنی نے ایکس پر لکھا: ’اگرچہ امریکہ میں اتحاد، بھائی چارے اور تمام مذاہب کے احترام کی بات خوش آئند ہے، لیکن اس پیغام کی اصل ضرورت آج ہندوستان میں ہے۔ اگر موہن بھاگوت حقیقی طور پر اس خیال کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں تو انھیں کھلے عام ان لوگوں سے خود کو دور کرنا چاہیے جو نفرت پھیلاتے ہیں اور ان کے خلاف موثر کارروائی کے ذریعے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ محض غیر ملکی سامعین کے لیے بیان بازی نہیں ہے۔‘
دریں اثنا جنوبی ریاست کرناٹک کے وزیرِ داخلہ اور آر ایس ایس کے ناقد پرییانک کھڑگے نے بھی موہن بھاگوت کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے آر ایس ایس پر الزام لگایا کہ وہ بیرونِ ملک زیادہ جامع اور ہم آہنگی پر مبنی لہجہ اختیار کرتی ہے، جبکہ انڈیا میں مسلسل ہندو راشٹر کے نظریے کو فروغ دیتی رہتی ہے۔
کھڑگے نے امریکہ میں بھاگوت کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر لکھا: ’جب سامعین بدل جاتے ہیں تو زبان میں بھی خاصی تبدیلی آ جاتی ہے۔‘
کانگریس رہنما نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ آر ایس ایس اپنے بیرونِ ملک نیٹ ورک کے ذریعے انڈین تارکینِ وطن (ڈائسپورا) کے درمیان اپنے ’وچار پریوار‘ (ہم خیال کنبے) کے لیے حمایت اور مالی وسائل اکٹھے کرتی ہے، جو ان کے بقول ’معاشرے میں فرقہ واریت کے بیج بوتا ہے۔‘
کھڑگے نے موہن بھاگوت کے تین ملکوں پر مشتمل امریکی دورے اور اس کے مرکزی پیغام ’عالمی یگانگت‘ پر بھی سوال اٹھایا۔ انھوں نے ہندو سویم سیوک سنگھ (ایچ ایس ایس) کے کردار کی طرف اشارہ کیا، جسے انھوں نے آر ایس ایس کی بیرونِ ملک شاخ قرار دیا، اور کہا کہ یہ تنظیم تارکینِ وطن انڈینز کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
شیو سینا (ادھو ٹھاکرے دھڑے) کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ ’بھاگوت کو ایسے بیانات انڈیا میں دینے چاہییں۔ دلی میں جو حکومت میں ہیں، اترپردیش میں جو حکومت میں ہیں ان کے لیے ایک تربیتی کیمپ چلانا چاہیے۔ نیویارک میں وہ جو بات کر رہے ہیں اسے ہندی میں ڈھونگ کہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بھاگوت کا پاکستان پر نرم رویہ
موہن بھاگوت اور آر ایس ایس کی تنقید کے باوجود ایک بات جو بظاہر نظر آ رہی ہے وہ موہن بھاگوت کے بیانات میں نرمی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
اگر اس کی کرونولوجی دیکھی جائے تو بی جے پی کی نریندر مودی حکومت کی سنہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد وقتاً فوقتاً آر ایس ایس کے رہنما کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور مسلمانوں تک پہنچنے کی کوششیں نظر آتی ہیں۔
یہ سنہ 2015 میں ستمبر کے پہلے ہفتے کی بات ہے جب آر ایس ایس نے بی جے پی کی حکومت سے تین روز کے صلاح مشورے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ ’حکومت کو پاکستان سے تعلقات بہترکرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘، تو بہت سے لوگوں کا ماتھا ٹھنکا تھا کہ کیا آر ایس ایس نے ’اکھنڈ بھارت‘ کے خواب کو ترک کردیا ہے؟
اس وقت آر ایس ایس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور باقی ہمسایہ ممالک کبھی ایک ہی جسم (ہندوستان) کا حصہ ہوا کرتےتھے، اور ’ایک ہی کنبہ ہو۔۔۔ تو بھائیوں میں اختلافات ہو ہی جاتے ہیں‘ اور جن قوموں کے درمیان تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے رشتے ہیں، ان سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
انھوں نے جین زی کے ساتھ حالیہ ملاقات میں بھی اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے۔
موہن بھاگوت نے گذشتہ سال انڈیا اور پاکستان کے درمیان جھڑپ کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا: ’تنازعات اور کشیدگی کے وقت ملک کو اپنی حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کے درمیان موجود تاریخی اور انسانی رشتے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیے جائیں۔‘
بھاگوت کے مطابق پاکستان ایک صدی پہلے تک برصغیر ہی کا حصہ تھا اور اس تاریخی حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تنازع کے دوران تعلقات معطل ہو سکتے ہیں، مگر مستقل دشمنی اور مستقل نفرت کوئی حل نہیں۔‘
یہ بیان خاص طور پر اس لیے توجہ کا مرکز بنا کیونکہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات پر آر ایس ایس کا مؤقف عموماً سخت رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہذریعہPTI
موہن بھاگوت کی مسلمانوں تک پہنچنے کی کوشش
اس سے قبل 22 ستمبر سنہ 2022 کو موہن بھاگوت نے اچانک دارالحکوت دلی کی ایک مسجد اور ایک مدرسے کا دورہ کیا۔
یہ دورہ انھوں نے ایک ایسے وقت پر کیا جب بعض اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ انھوں نے حال ہی میں ملک کے پانچ مسلم دانشوروں سے ملاقت کی اور ان سے ہندو مسلم تعلقات کے کئی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
موہن بھاگوت نے جن پانچ دانشوروں سے ملاقات کی تھی ان میں انڈیا کے سابق الیکشن کمشنر ایس وائے قریشی، دلی کے سابق لفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، صحافی اور سابق رکن پارلیمان شاہد صدیقی، مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ اور صنعت کار سعید شیروانی شامل تھے۔
شاہد صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات 22 اگست کو دلی میں آر ایس ایس کے دفتر میں ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ نوپور شرما کے متنازع بیان کے بعد ملک میں جس طرح کا نفرت انگیز ماحول بن رہا تھا وہ بہت پریشان کن ہے۔
شاہد صدیقی نے بتایا کہ آر ایس ایس کے سربراہ سے بات چیت میں انھوں نے گؤ کشی اور نسل پرستانہ جملوں جیسے سوالات پر ان کا مؤقف جاننا چاہا جبکہ مسلم دانشوروں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم، ہجومی تشدد اور اس طرح کے دوسرے مسائل پر بات کی۔
اس کے اگلے سال ممبئی میں پانچ فروری بروز اتوار ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ہندو مذہب میں ذات پات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد ہندوؤں کی جانب سے ان کی سخت تنقید کی گئی تھی۔
تاہم نیویارک کے بعد ٹورانٹو میں بھی انھوں نے انڈیا کے تنوع میں اتحاد کی بات دہرائی۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
ٹورانٹو میں لفظ ’ہندو‘ کی تشریح
خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق لفظ ’ہندو‘ کے وسیع تر مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا: ’جب میں ہندو کہتا ہوں تو لفظ ہندو کو کسی مخصوص زبان، کسی خاص طریقۂ عبادت یا کسی خاص طرزِ زندگی کے ذریعے محدود یا متعین نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تمام چیزیں اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن یہ انسانوں کے تنوع اور مختلف رنگوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ہندو ان تمام تنوعات کا احترام کرتا ہے اور انھیں قبول کرتا ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ: ’دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی شخص پر ظلم و ستم ہوا، اسے صرف انڈیا میں پناہ ملی۔ بہت سے لوگ بیرونی حملہ آوروں کی حیثیت سے انڈیا آئے، لیکن وہ آج بھی اپنی تمام خصوصیات اور شناخت کے ساتھ وہاں آباد ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔ اب وہ انڈین شہری ہیں۔‘
ان کے مطابق انڈیا تاریخی طور پر مختلف برادریوں اور پناہ گزینوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ رہا ہے۔
ڈی این میں شائع اس رپورٹ کے جواب میں خالد لطیف نامی ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے فیس بک پر لکھا: ’قرونِ وسطیٰ کے زمانے میں جو بھی لوگ اس خطے میں آئے جسے آج ہم انڈیا کے نام سے جانتے ہیں، وہ فاتحین کی حیثیت سے آئے تھے، جن میں ترک افغان، مغل اور برطانوی شامل تھے۔ اُن میں سے کچھ واپس چلے گئے، جبکہ بعض نے یہیں رہنے اور اسے اپنا وطن بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ مہاجرین یا پناہ گزین نہیں تھے۔ وہ کسی ظلم و ستم یا جبر سے بچنے کے لیے یہاں نہیں آئے تھے، بلکہ فاتحین کی حیثیت سے آئے اور بعد ازاں انھوں نے انڈیا کو اپنا گھر بنا لیا۔‘
خالد نے مزید لکھا: ’انھوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کیا اور ملک کی تاریخ، تہذیب، ثقافت، تعمیر و ترقی، انتظام، معیشت، فنون، تعلیم اور دیگر میدانوں میں قابلِ ذکر خدمات انجام دیں۔‘



















